بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کے مطابق، آستان قدس رضوی کی مناسبتوں کی کمیٹی کی میٹنگ آستان قدس رضوی کے قائم مقام کی صدارت میں منعقد ہوئی جس کے دوران عشرہ کرامت کے پروگراموں کے انعقاد کے طریقہ کار اور ان سے متعلق پالیسیوں کا جائزہ لیا گيا ۔
اس میٹنگ میں جس میں آستان قدس کے مختلف شعبوں کے ذمہ داروں نے شرکت کی آستان قدس رضوی کی علمی اور ثقافتی آرگنائزیشن کے سربراہ ڈاکٹرعبدالحمید طالبی نئے ایرانی سال کے مرکزی نعرے اور موجودہ حالات میں امام رضا(ع) کی تعلیمات کی تشریح کی اولویت کا حوالہ دیا ۔
امام رضا(ع) کا ایران ؛ تمدن سازی اور رہنمائي کا نمونہ
ڈآکٹرعبدالحمید طالبی اس میٹنگ میں ((امام رضا(ع) کا ایران؛ مقتدر۔ متحد اور کامیاب)) کے سلوگن کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ عشرہ کرامت رضوی پورے ایران کی وسعت کے اعتبار سے رضوی ثقافت کی ترویج کا بہترین موقع ہے اور ان ایام میں ((ایران حرم ہے)) کا مفہوم مکمل طور پر مجسم ہوگا اور امید کرتے ہیں کہ رضوی تعلیمات اور مکتب اہلبیت (ع) کے معارف عوام کی زندگی اور سماجی حلقوں میں جاری ہوں گے
انہوں نے کہا کہ اس سال عشرہ کرامت سےقبل ایرانی عوام نے الہی جہاد کی انجام دہی سے عظیم کامیابیاں حاصل کیں اور پوری دنیا کی توجہ اپنی جانب مبذول کرلی اور یہی عمومی توجہ اصلی تمدن سازی کا پیش خیمہ ہے
ڈاکٹر طالبی نے ایرانی عوام کی مجاہدتوں سے مربوط قرانی مفاہیم کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ سورہ حج کی آیت نمبر 78 کے مطابق خداوندعالم اس قوم کو جو جہاد کا حق ادا کرے گی منتخب کرے گا۔
آج ہماری قوم پوری دنیا کے حریت پسندوں کے لئے مشعل راہ بن گئي اور کامیابی کا یہ احساس جو معاشرے کے وجود میں پیوست ہوچکا ہے محاذ ظلم کے خلاف توفیق الہی سے فتح و کامیابی اور ظہورخورشید ولایت کے ظہورتک جاری رہے گا ۔
نظام امامت کی تشریح مسلمانوں کی عزت اور منافقوں کے غصے کا باعث ہے
آستان قدس رضوی کی علمی اور ثقافتی آرگنائزیشن کے سربراہ نے گزشتہ برسوں کے مباحث اور موضوعات کو جاری رکھنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس سال اور مسلسل تیسرے سال امام اور امامت کے مقام و مرتبے کی تبیین اور تشریح ہی اصل موضوع رہے گا ۔
اس سلسلے میں امام رضاعلیہ السلام کی حدیث گہر بار بنیاد قرار پائي ہے جس میں آپ ارشاد فرماتے ہیں ۔
(( امام دین کو نظام عطا کرتا ہے مسلمانوں کے لئے باعث عزت و سربلندی ہے اور منافقوں کے لئے غم و غصہ کا باعث اور کافروں کی نابودی کا سبب ہوتا ہے))
انہوں نے رہبرشہید انقلاب رحمت اللہ علیہ اور رہبرمعظم انقلاب حفطہ اللہ کے فرمودات سے آستان قدس کے پروگراموں کے انطباق کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہاکہ اس سال کے عشرہ کرامت میں تین اصل (( زندگي میں امن و سکون اور امید حوصلے کے عمل کا جریان )) ۔ (( اتحاد و یکجہتی کا تحفظ )) اسی طرح (( عوام کی موجودگی اوران کا اہم کردار )) پر تاکید کی گئي ہے ۔
ڈآکٹر طالبی نے امام شہید رحمت اللہ علیہ کے فرمودات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے فرمایا تھا کہ جب عوام میدان میں اترتے ہیں اور فیصلہ کرتے ہیں تو آگ کو بجھا دیتے ہیں اور شعلوں کو خاکستر کردیتے ہیں ۔
اور یہ وہ اتفاق ہے جو اس بار رونما ہوا ہے اس کے بعد بھی توفیق الہی سے اگر کوئي حادثہ پیش آيا تو خدا وندعالم اس قوم کو مبعوث کرے گا اور عوام ہر طرح کے حادثات کا ڈٹ کر مقابلہ کریں گے اور کام تمام کردیں گۓ ))
انہوں نے رہبرشہید رضوان اللہ تعالی علیہ کے اس بیان کا حوالہ دیا جس میں آپ نے فرمایا تھا کہ عوام کی موجودگی ہی اصل اور بنیاد ہے اور اس اصل کی مزید تشریح رہبرانقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ مجتبی خامنہ ای کے بیان کے تناظر میں کی جس میں انہوں نے فرمایا ہے کہ (( جرائت کے ساتھ یہ کہا جاسکتا ہے کہ اے ایران کے بہادر عوام آپ ہی اس میدان کے حتمی اور قطعی فاتح ہیں۔
خواتین کا کردار ؛ اتحاد کی تقویت اور معاشرے میں خلاقیت
ڈاکٹر طالبی نے ایران کے آج کے معاشرے کی ایک اہم خصوصیت میدان میں خواتین کی موثر اور بھرپور موجودگی کو قرار دیا اور کہا کہ خواتین کی جانب سے میدان میں موجودگی اور اپنے کردار کی بھرپور ادائيگی اور اجتماعات میں ان کی وحدت بخش شرکت سب پر واضح اور نمایاں ہے۔
خلاقیت، مختلف ثقافتی اور سماجی صورتوں میں میدان میں خواتین کی موجودگي اس بات کو ثابت کرتی ہے کہ ملک کے اہداف کو آگے بڑھانے میں ایرانی خواتین اور لڑکیوں کا کردار انتہائي اہم ہے
ڈاکٹر طالبی نے اپنے بیان کے آخر میں کہا کہ میدان میں عوام کی یہ غیر معمولی موجودگی اور قومی اتحاد، اقتدار کے تحفظ اور کامیابیوں کے تسلسل کی ضامن ہے جو ایرانی عوام نے پجھلے مہینوں کے دوران حاصل کی ہے اور عشرہ کرامت امت اور امامت کے درمیان اس اٹوٹ رشتے کا نقطہ کمال ثابت ہوگا ۔
آپ کا تبصرہ